سائنس کیا ہے؟

از عاصم افتخار

سائنس کا تصور انسانی تاریخ میں ہمیشہ سے موجود رہا ہے، اگرچہ ہر دور اور ہر تہذیب نے اسے مختلف ناموں اور زاویوں سے سمجھا ہے۔ اسلامی اور دیگر قدیم روایتوں میں سائنس کو “طبیعیات” (Physics) کے نام سے جانا جاتا تھا۔ طبیعیات کا مطلب کائنات کے طبیعی عوامل کو جاننا، سمجھنا اور ان کی تشریح کرنا ہے۔ یونانی فلسفہ، اسلامی تہذیب اور ہندو روایت سبھی میں یہ ایک علم کے طور پر رائج رہا۔ مسلمان مفکرین جیسے ابن سینا، ابن ہیثم، الزہراوی، اور امام غزالی وغیرہ نے طبیعیات پر گہرائی سے بحث کی اور اسے خدا کی تخلیق اور افعال کے ادراک کا ذریعہ قرار دیا۔ جدید دور میں بھی سائنس کی تعریف تقریباً یہی کی جاتی ہے کہ یہ طبیعی دنیا کے منظم مطالعے کا نام ہے۔ بظاہر یہ تعریف ایک سادہ اور غیر متنازعہ بیان لگتی ہے جس پر ایک مسلمان کو بادی النظر میں کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔

تاہم، اس تعریف کے پس منظر میں جو فلسفیانہ بنیادیں چھپی ہوئی ہیں، وہ اس تعریف کو خالصتاً الحادی بنا دیتی ہیں۔ جدید مغربی سائنس کا پورا ڈھانچہ میکانکی اور مادی دنیا کے اصولوں پر کھڑا ہے، جو خدا کے کسی کردار کو تسلیم کرنے سے انکار کرتا ہے۔ یہ تصور کہ کائنات محض اندھے قوانین کے تابع ہے اور ہر چیز اتفاقات (chance) اور مادی تعاملات (material interactions) سے وجود میں آئی ہے، اسلامی توحیدی تصور کائنات سے متصادم ہے۔ لہذا ضروری ہے کہ ہم سائنس کی ایک ایسی تعریف کریں جو اپنے ظاہر میں ہی اسلامی عقائد کی نشاندہی کرے۔ چنانچہ سائنس کی تعریف یہ ہونی چاہیے کہ: “طبیعی کائنات میں افعالِ خداوندی کے ظہور کی عادت کو جاننا سائنس ہے۔” اس تعریف کے مطابق سائنس محض مادہ اور اس کے قوانین کا مطالعہ نہیں بلکہ اس بات کا ادراک ہے کہ یہ سب اللہ تعالیٰ کے حکم اور اس کی مشیت کے تحت رواں دواں ہے۔

دوسرا اہم میدان جس میں اصلاح کی ضرورت ہے وہ سائنس کے دائرۂ کار اور حدود کی وضاحت ہے۔ موجودہ دور میں سائنس کو اس حد تک بڑھا دیا گیا ہے کہ گویا وہ علم کی واحد معتبر شکل ہے۔ لیکن اسلامی فکر میں علم کی درجہ بندی موجود ہے۔ حسیات کے تحت حاصل ہونے والا علم بعض اوقات بدیہی (self-evident) یا قطعی ہوتا ہے، جیسا کہ ہمارا یہ جاننا کہ ہم بھوکے ہیں، پیاسے ہیں یا آگ جلاتی ہے وغیرہ، لیکن یہ عمومی حس سے متعلق ہے، سائنس سے نہیں۔ سائنس کے مخصوص طریقۂ کار سے پیدا ہونے والا علم دراصل ظنی علم ہے جو یقینی نہیں بلکہ احتمالی (probabilistic) ہوتا ہے۔ یہ ظنی علم اپنے تیقن کے اعتبار سے اخبارِ آحاد سے آگے نہیں بڑھ سکتا۔ اسلامی اصولوں کے مطابق یہ علم مفید ہو سکتا ہے لیکن اسے مطلق سچائی کا درجہ نہیں دیا جا سکتا۔

تیسرا اہم میدان سائنس سے پیدا ہونے والی مصنوعات اور ٹیکنالوجی کا ہے۔ جدید دور میں سائنسی ترقی کے نتیجے میں جو آلات، طریقے اور نظام بنے ہیں، ان کو کسی نہ کسی مقصد کے تحت استعمال کیا جاتا ہے۔ اسلامی نقطۂ نظر سے ضروری ہے کہ ان مصنوعات کو شریعت کے مقاصد سے ہم آہنگ کیا جائے۔ اگر ٹیکنالوجی کا استعمال اللہ کی بندگی، معاشرتی عدل، انسانیت کی خدمت اور اخلاقی قدروں کو فروغ دینے کے لیے کیا جائے تو یہ خیر کا ذریعہ ہے۔ لیکن اگر یہ آلات فساد، استحصال اور اللہ سے بغاوت کے لیے استعمال ہوں تو یہ شر کا سبب بن جاتے ہیں۔ چنانچہ سائنس کی ترقی کا اسلامی مقصد یہ ہونا چاہیے کہ وہ اسلامی غایات کی تکمیل کرے اور شریعت کے مقاصد سے منسلک ہو۔

اسلامی نقطۂ نظر سے سائنس کو محض مادی قوانین کا مطالعہ سمجھنا ایک سطحی رویہ ہے۔ اصل مقصد یہ ہے کہ کائنات میں جاری اللہ تعالیٰ کے افعال کو پہچانا جائے اور ان کی معرفت سے اللہ کی عظمت، حکمت اور قدرت کا شعور پیدا کیا جائے۔ یہی وہ روح ہے جو اسلامی سائنس کو الحادی سائنس سے ممتاز کرتی ہے اور یہی وہ معیار ہے جو آج کے مسلمانوں کے لیے ایک نئے سائنسی وژن کی بنیاد فراہم کرتا ہے۔

1 thought on “سائنس کیا ہے؟”

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top