از عاصم افتخار
ملحدین اور دہریہ وجود باری تعالی پر جب بات کرتے ہیں تو وہ مسئلہ خیر و شر کو اپنا بنیادی مقدمہ بناتہیں اور یہیں سے دلائل دینے کی کوشش کرتے ہیں حالانکہ اہلِ ایمان کا منہج ہمیشہ یہ رہا ہے کہ سب سے پہلے وجودِ واجب بالذات کو عقلی و برہانی دلائل کے ساتھ ثابت کیا جائے چاہے وہ برہانِ امکان و وجوب ہو، برہانِ حدوثِ عالم ہو، برہانِ غایت ہو یا فطرتِ انسانی کی شہادت۔ ایک بار جب یہ بات عقل و برہان کے ذریعے طے ہو جاتی ہے کہ کائنات حادث اور محتاج ہے، اور اس کے پیچھے ایک واجبُ الوجود، علیم و حکیم خالق ہے، تبھی اس کے افعال، صفات اور حکمتوں پر گفتگو کا دروازہ کھلتا ہےاور یہی منطقی ترتیب بھی ہے۔
لیکن جدید الحاد کی روایت جو زیادہ تر مغربی فلسفے کے مخصوص تناظرات سے نکلی ہے اس ترتیب کو سرے سے بدل دیتی ہے۔ وہ براہِ راست ’’مسئلۂ شر‘‘ کو اٹھاتا ہے، دنیا میں دکھ، ظلم، بیماری اور ناانصافی کیوں ہے؟ اور پھر اسی سوال کو بنیاد بنا کر خدا کے وجود کو مشکوک یا منکر کر دیتا ہے۔ یوں گویا اصل کے بجائے فرع کو مقدم کر دیا جاتا ہے۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ مسلمان مناظر دفاعی پوزیشن میں آ جاتا ہے اور بحث خدا کے وجود کے بنیادی دلائل پر قائم ہونے کے بجائے ایک ثانوی اور اخلاقی سوال کے گرد گھومنے لگتی ہے۔
یہاں یہ نکتہ سمجھنا ضروری ہے کہ اسلامی کلامی روایت میں کبھی بھی ’’مسئلۂ شر‘‘ کو خدا کے ہونے یا نہ ہونے کے بنیادی معیار کے طور پر پیش نہیں کیا گیا۔ امام ابو الحسن اشعری، امام ماتریدی، امام غزالی اور دیگر متکلمین نے وجودِ باری تعالیٰ کو ہمیشہ عقلی اور وجودی براهین سے ثابت کیا اور پھر اس کے بعد شر کے مسئلے کو حکمت، ابتلاء اور عدلِ الٰہی کے ذیل میں بیان کیا۔ اگر کوئی شخص شر کو نقطۂ آغاز بناتا تو اسے ہم ’’مغالطۂ ترتیب‘‘ قرار دیتے ہیں، کیونکہ شر بذاتِ خود وجودِ خدا کی نفی پر منطقی دلیل نہیں بلکہ بنیادی مقدمہ طئے ہونے کے بعد کا ایک سوال ہے جس کا جواب صفاتِ الٰہی کی روشنی میں دیا جائیگا ۔ اس لئے مسئلہ شر کو وجودِ خدا کی نفی کے لیے نقطۂ آغاز بنانا منطقی ترتیب پر محلِّ نظر ہے، کیونکہ یہ بحث وجودیات (metaphysics) کی تقدّمیت کو اخلاقیاتِ جزویہ پر الٹ دیتی ہے۔ وجودِ واجب کی بحث علت و معلول کے عام اصول، (Principle of Sufficient Reason)، امکان و وجوب، اور حدوثِ عالم کے بُرہانی دلائل پر قائم ہے؛ ان دلائل کا مدّعا یہ ہے کہ ممکناتِ محض اور حوادثِ زمانی کو خارج از خود ایک واجبُ الوجود درکار ہے۔ اس مدّعا سے شرّ کے تجربے کی نفی یا اثبات کا کوئی لازمِ منطقی ترتیب نہیں نکلتی، کیونکہ شرّ ایک اخلاقی و غایتی مسئلہ ہے جبکہ وجودِ واجب ایک ماقبلِ اخلاق (pre-moral) وجودی حقیقت ہے۔ پس ترتیبِ صحیح یہ ہے کہ اولاً وجودِ واجب بالبرہان ثابت ہو، پھر صفات و افعالِ الٰہی کی تفہیم میں شرّ کے مقام پر گفتگو ہو؛ آغاز ہی میں شرّ کو بنیاد بنانا “تقدّمِ فرع بر اصل” کے مانند ہے۔
منطقی سطح پر مسئلۂ شر کی کلاسیکی صورت ایک متناقض قضیہ دکھانے کی کوشش کرتی ہے: (۱) خدا علیم، قدیر اور خیر مطلق ہے؛ (۲) شرّ موجود ہے؛ لہٰذا (۳) خدا موجود نہیں۔ اس استدلال میں ایک مخفی مقدّمہ پہلے سے شامل ہے: (۱) “ہر خیر مطلق ہر اس شرّ کو دور کر دیتا ہے جسے وہ قدرتاً دور کر سکتا ہو اور جس کے باقی رکھنے میں کوئی اعلیٰ حکمت نہ ہو”۔ نزاع دراصل اسی مخفی مقدّمہ پر ہے، نہ کہ (۱) یا (۲) پر۔ متکلمینِ اہلِ سنّت کے نزدیک قدرتِ الٰہی کا تعلّق ممکنات سے ہوتا ہے اور فعلِ الٰہی حکمت سے خالی نہیں؛ لیکن “حکمت” کو انسانی توقّعات اور جزوی معلومات پر قائم کرنا مغالطۂ “عدم علم” (no-seeum) ہے: “ہمیں کوئی وجہ نظر نہیں آتی، لہٰذا کوئی وجہ ہے ہی نہیں”۔ اس لیے منطقی تضاد تبھی پیدا ہوگا جب یہ دعویٰ بھی بُرہاناً ثابت کیا جائے کہ “عالم میں جو بھی دکھائی دینے والا شرّ ہے وہ تماماً بلاوجہ اور بلا حکمت ہے”؛ جبکہ یہ کلیہ انسان کے محدود علم سے ماورا ایک دعویٰ ہے اور بذاتِ خود غیر بُرہانی۔
کلامی زبان میں شرّ کی ontological تحلیل بھی اس استدلال کو کمزور کرتی ہے۔ بہت سے متکملین نے شرّ کو بالذات موجودِ مثبت نہیں بلکہ “عدمُ الخیر” یعنی خیرِ لائق کے فوت ہونے کی صورت قرار دیا ہے۔ عدمی و نسبتی امور (privation/relational) علتِ قائمہ بن کر وجودِ واجب کے خلاف شہادت نہیں دے سکتے۔ مثال کے طور پر بیماری “صحت کے فقدان” کا نام ہے؛ فقدان کا مثبت وجود نہیں کہ وہ بذاتِ خود ایک مستقل ضِدّی حقیقت ہو جسے وجودِ واجب کے مقابل کھڑا کیا جائے۔ پس “عدم” کو دلیلِ معدوم بنانے سے وجودِ واجب پر قدح منطقی طور پر لازم نہیں آتا۔
مزید یہ کہ مسئلۂ شر بطور دلیل اس وقت ایک performative incoherence میں مبتلا ہو جاتا ہے جب وہ معروضی اخلاقی قدر (objective moral value) کو پیشگی فرض کر لیتا ہے۔ استدلال کی ساخت یہ ہے: (الف) شرّ واقعی و مطلق ہے، (ب) مطلق اخلاقی قدروں کے لیے ایک فوقِ طبیعی، غیر نسبی معیار لازم ہے، (ج) ایسا معیار یا تو واجبُ الوجود خیرِ محض کے ساتھ ممکن ہے یا پھر محض نفسی و اجتماعی معاہدات کے ساتھ، اور (د) محض معاہدات سے مطلقیت پیدا نہیں ہوتی۔ اگر (الف) مانا گیا تو (ب) و (ج) کے ساتھ خدا کا انکار خود اپنے مقدمے کو منہدم کر دیتا ہے، کیونکہ مطلقِ اخلاقی کے لیے غیر نسبی مُقوِّم چاہیے۔ لہٰذا مسئلۂ شر سے لاادریت یا الحاد کی طرف چھلانگ خوداپنے پیشگی فرض کئے گئے مقدمہ کو رد کر دیتی ہے؛ یا تو شرّ محض ذوقی/نسبی رہ جائے گا، یا اگر مطلق مانا جائے تو وہ خدا کے وجود کے موافق دلیل بنے گا مخالف نہیں۔
اہلِ سنّت کے کلام میں “حُسن و قُبح” کے باب کی تفریق بھی یہاں رہنمائی کرتی ہے۔ اشاعرہ خارجی معیارِ لزوم کو خدا پر واجب نہیں مانتے: “لایجبُ علی اللہ شیءٌ”؛ یعنی اللہ پر کسی خارجی معیار سے کوئی فعل واجب نہیں ہوتا، اگرچہ افعالِ الٰہی حکمت سے خالی نہیں۔ ماتُریدیہ عقل کے لیے بعض بدیہی اخلاقی معانی تسلیم کرتے ہیں مگر اس سے بھی خدا پر “الاصلح للعباد” لازم نہیں ٹھہراتے۔ دونوں مسالک میں قدرِ مشترک یہ ہے کہ شرّ کا وقوع “ابتلاء و تکلیف” کے باب سے، تدبیرِ کونی اور تزکیۂ انسانی کے مقاصد سے متعلق ہے، نہ کہ احسانِ مطلق کی نفی سے۔ یوں قضیہ “قدرتِ مطلق + احسانِ مطلق ⇒ عدمُ الشرّ” ایک غیر ثابت کلیہ ہے؛ صحیح کلیہ یہ ہوگا: “قدرتِ مطلق + حکمت ⇒ وہ نظام جس میں مقاصدِ اعلیٰ کی تکمیل کے لیے بعض شرورِ نسبی و عدمی بطورِ وسیلہ برتے جائیں”۔ اس سے نہ تناقض پیدا ہوتا ہے نہ نفیِ وجودِ واجب۔
حدوثِ عالم اور امکان و وجوب کے دلائل کی ساخت بھی واضح کرتی ہے کہ مسئلۂ شر ان پر وارد نہیں ہوتا۔ برہانِ امکان: (P1) ہر ممکن الوجود کے وجود کے لیے خارجِ ذات میں مرجِّح لازم ہے؛ (P2) کائناتِ محسوسہ ممکن الوجود اجزاء پر مشتمل ہے؛ (C) لہٰذا کائنات کے لیے ایک واجبُ الوجود مرجِّح لازم ہے۔ یہاں “شر” کا ذکرِ علت نہیں، کیونکہ علتِ ترجیح وجود کا مبدء ہے، نہ کہ افعالِ اخلاقی کی تفصیلات۔ اسی طرح برہانِ حدوث: (P1) حادث لامحالہ مُحدِث چاہتا ہے؛ (P2) عالم حادث ہے (أعراض کی تجدد، زمانیت، ترکیب وغیرہ کی بنا پر)؛ (C) لہٰذا عالم کا مُحدِث واجبُ الوجود ہے۔ شرّ کی موجودگی ان مقدمات کو نہ ابطال کرتی ہے نہ تضعیف؛ زیادہ سے زیادہ یہ سوال کھلتا ہے کہ مُحدِثِ حکیم کے فعل میں شر کی حکمت کیا ہے اور یہ بحث مرتبۂ ثانیہ کی ہے۔
عملاً مسئلۂ شر میں “شرورِ اخلاقی” اور “شرورِ طبیعی” کی تفریق بھی مغالطے کو بے نقاب کرتی ہے۔ شرورِ اخلاقی میں انسان کا کسب و اختیار داخل ہے؛ ماتُریدیہ کے نزدیک قدرتِ حادثہ حقیقی طریق پر افعالِ عبد سے تعلّق رکھتی ہے اور اشاعرہ کے نزدیک کسب کی نسبت انسان کو مکلف بناتی ہے؛ دونوں میں اثم کا انتساب عبد کی طرف ہوتا ہے اور عدلِ الٰہی پر قدح لازم نہیں آتی۔ شرورِ طبیعی میں بھی کلی تناظر امتحان، تربیتِ نفس، اور نظامِ اسباب کے اندر جزوی آلام کے ذریعے کلی خیرات کی تولّد ہے؛ انسانی علم ان غایات پر محیط نہ ہو تو “عدمِ علم” سے “علمِ عدم” پر استدلال باطل رہے گا۔
نتیجہ یہ کہ مسئلۂ شر کو بحثِ وجودِ خدا کا نقطۂ آغاز بنانا کلامی ترتیبِ نظر کی خلاف ورزی ہے: یہ وجودیات پر اخلاقیاتِ جزویہ کو مقدّم کرتا ہے، عدمی و نسبی امر کو مثبتِ وجودی کے خلاف شہادت بناتا ہے، اور معروضی اخلاقی قدر کو پیشگی فرض کر کے اپنے ہی مقدمے کو رد کرتا ہے۔ صحیح منہاج یہ ہے کہ پہلے وجودِ واجب بالدلائلِ الوجودیۃ (امکان و وجوب، حدوث، عنایت و غایت) ثابت کیا جائے؛ پھر صفاتِ الٰہی کے فہم میں “حکمت، عدل، ابتلاء” کے مفاہیم کے ساتھ شر کے مقام کی توضیح کی جائے۔ اس ترتیب کے ساتھ مسئلۂ شر دلیلِ سلبی نہیں رہتا بلکہ تدبیرِ و حکمت کی ایک معقول تشریح کا محرّک بن جاتا ہے۔

