تقوی سے سرمایہ تک: مسلم معاشرے میں علم و خیر کے مفہوم میں فکری انحراف

از عاصم افتخار

سرمایہ دارانہ فکر (Capitalist Thought) بنیادی طور پر اس عقیدے پر قائم ہے کہ انسان کی فلاح (well-being) اور خیر (goodness) کا تعین مادی وسائل کے حصول، دولت کے ارتکاز، اور انسان کی آزادی سے ہوتا ہے۔ اس تصور میں “ترقی” کا مطلب زیادہ پیداوار، زیادہ تنخواہ، زیادہ اشیائے صرف (consumer goods)، اور زیادہ ٹیکنالوجی ہے۔ انسان کی کامیابی اب تقوی، اعلیٰ اخلاق یا روحانی حالت سے نہیں بلکہ اس کے بینک بیلنس، کمپنی میں پوزیشن، یا مارکیٹ ویلیو سے ناپی جاتی ہے۔

اس سرمایہ دارانہ نظام نے پوری دنیا کے فکری، تعلیمی، اور معاشی ڈھانچے کو متاثر کیا ہے، حتیٰ کہ وہ معاشرے بھی جو دینی اصولوں کو اپنی بنیاد مانتے تھے۔ مسلم دنیا بھی اس فکری نظام سے محفوظ نہ رہ سکی۔ آج اگر آپ مسلم معاشرے کے عام فرد، طالب علم، یا پالیسی ساز کی گفتگو سنیں تو واضح ہو جائے گا کہ “فلاح”، “ترقی”، “خدمت خلق”، اور “کامیابی” جیسے الفاظ اپنے روایتی اسلامی معنوں سے ہٹ کر خالص مادی تناظر میں استعمال ہو رہے ہیں۔

اس لئے‌ ترقی اب تقویٰ، علم نافع یا اخلاص میں بڑھوتری کا نام نہیں، بلکہ GDP، نوکری، یا بیرون ملک سیٹل ہونے کو کہتے ہیں۔
کامیابی اب قربِ الٰہی یا حسنِ خاتمہ نہیں، بلکہ اچھی تنخواہ، گاڑی، بنگلہ، اور سوشل میڈیا پر “influencer” بننے کو کہا جاتا ہے۔

فلاح اب اخروی نجات یا معاشرتی عدل نہیں، بلکہ کسی IT کمپنی میں جگہ پا لینا، یا ویزا حاصل کر لینا ہے۔

خدمتِ خلق کو بھی بعض اوقات NGOs یا کارپوریٹ CSR (Corporate Social Responsibility) کی طرز پر فقط معاشی سروسز میں محدود کر دیا جاتا ہے، جو عموماً کمپنی یا فرد کی شہرت بڑھانے کا ذریعہ ہوتا ہے۔

اس بدلی ہوئی فکری فضا میں مال کا حصول بذاتِ خود خیر بن چکا ہے۔ یعنی اب یہ سوال ہی نہیں اٹھایا جاتا کہ مال کس نیت سے حاصل ہو رہا ہے، کس طریقے سے، اور اس کا استعمال کیا ہوگا، بلکہ صرف یہ کافی ہے کہ وہ “ترقی” کر رہا ہے۔ یہی وہ نقطۂ آغاز ہے جہاں سے مسلمان معاشرے کا روحانی و اخلاقی زوال شروع ہوتا ہے، کیونکہ وہ خیر کے قرآنی و نبوی معیار کو چھوڑ کر مارکیٹ کے پیمانے سے خیر کو ناپنے لگتا ہے۔

اسلامی فکر میں خیر کا مفہوم ہمیشہ عبدیت، اخلاق، تقویٰ، اور قربِ الٰہی سے جڑا رہا ہے۔ قرآن کہتا ہے:

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

سرمایہ دارانہ مادیت فکر استعمار کے نتیجہ میں اس حد تک غالب آچکی ہے کہ ہم نے مادیت پر مبنی سائنسی علمیات کو اپنی علمیات پر فوقیت دے دی ہے اور یہ فوقیت بھی اس حد تک ہے کہ ہمارے اکثر و بیشتر دانشور و مفکرین کو اپنی علمی روایت کا پتا ہی نہیں نتیجتاً قرآن کی تفسیر بھی اب مادیت پر مبنی سائنسی علمیات کے زیر اثر کی جارہی ہے جبکہ
اسلامی روایت میں قرآن مجید کو محض معلوماتی یا سائنسی کتاب نہیں بلکہ ہدایت، تزکیہ، اور معرفتِ الٰہی کا سرچشمہ سمجھا جاتا ہے۔ قرآن کی وہ آیات جو زمین و آسمان، تخلیقِ انسان، پانی کے نظام، دن رات کے بدلنے، اور کائنات کے دیگر مظاہر پر غور و فکر کی دعوت دیتی ہیں، ان کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ انسان ان نشانیوں میں اپنے خالق کی قدرت، حکمت، اور رحمت کو پہچانے۔ ان آیات میں تدبر کا تقاضا اس لیے کیا گیا ہے تاکہ بندہ اپنی محدودیت اور رب کی عظمت کا شعور حاصل کرے، اور اس کے دل میں خشیت، تسلیم، اور عبادت کی رغبت پیدا ہو۔ قرآن کا خطاب دل، عقل، اور روح یعنی مکمل‌انسان سے ہے، نہ کہ محض تجربہ گاہ سے۔

عصر حاضر میں تو ایسے دانشور اور مفکرین کی ایک کھیپ ہے جس نے قرآن کی آیات کو سائنس کی روشنی میں ثابت کرنے کا‌بیڑہ‌ اٹھایا‌ ہوا ہے۔ ممکن ہے اس کا مقصد ابتدا میں دین کا دفاع اور دعوت کو سائنسی ذہن کے لیے قابل فہم بنانا رہا ہو، مگر آہستہ آہستہ اب یہ رجحان ایک فکری منہج میں تبدیل ہو گیا ہے۔ اب ان آیات کی تفسیر میں یہ پہلو نمایاں ہونے لگا کہ قرآن جدید دریافتوں کی تصدیق کرتا ہے یا ان کی پیشگوئی کرتا ہے، جیسے کہ Big Bang، DNA، یا بلیک ہولز وغیرہ۔ اس طرز فکر نے قرآن کی اصل ہدایتی روح کو کمزور کر دیا، اور یوں قرآن کو ایک سائنسی انسائیکلوپیڈیا کی حیثیت سے پیش کرنے کا رجحان عام ہوتا گیا۔

اس غلط رجحان کا پہلا نقصان یہ ہوا کہ قرآن کی روحانی، ایمانی اور اخلاقی تعلیمات، جو آیاتِ کائنات کے ذریعے قلوب کو جھنجھوڑتی تھیں، اب محض تجرباتی میل اور عددی مماثلت میں محدود ہو گئیں۔ جب ان آیات کو سائنسی معانی میں جکڑ دیا گیا تو ان کا دینی مقصد پسِ پشت چلا گیا۔ دوسرا نقصان یہ ہوا کہ سائنسی نظریات چونکہ تجربات اور وقت کے ساتھ بدلتے رہتے ہیں، اس لیے جب قرآن کی آیات کو ان نظریات سے منسلک کیا گیا، تو گویا قرآن کی تعبیر بھی غیر یقینی بنیادوں پر استوار ہو گئی۔ یہ بات قرآن کی ابدیت اور ربانی حیثیت کے منافی ہے۔ تیسرا اور سب سے گہرا نقصان یہ ہوا کہ قرآن کو سائنس کے تابع بنا کر، علم وحی کی بالادستی کو ترک کر دیا گیا، اور مسلمانوں کے دلوں میں یہ تصور جڑ پکڑنے لگا کہ جب تک کوئی بات سائنس سے ثابت نہ ہو، تب تک وہ معتبر نہیں۔ اس سے علمِ وحی اور وحی پر اعتماد کمزور ہوتا چلا گیا۔

اس کے ساتھ ساتھ مسلم معاشروں میں سائنس اور ٹیکنالوجی کی تعلیم کا رجحان بھی اسلامی پیراڈائم سے ہٹ کر، خالصتاً مغربی اور سرمایہ دارانہ تصور علم کے تحت پروان چڑھ رہا ہے۔ مسلمان نوجوان سائنس اس لیے نہیں سیکھ رہے کہ وہ اللہ کی تخلیق کا ادراک کر کے اس کی بندگی میں ترقی کریں، یا امت کو علم و عدل کی بنیاد پر نفع دیں، بلکہ ان کی ترجیح صرف یہ ہے کہ انہیں بہتر تنخواہ، اچھی نوکری، اور بیرون ملک سیٹل ہونے کے مواقع ملیں۔ تحقیق، جو کبھی تقویٰ، تزکیہ اور اصلاحِ معاشرہ کا ذریعہ تھی، اب صرف گرانٹ، پبلیکیشن، اور صنعتی مفاد کا ہدف بن گئی ہے۔ تعلیمی اداروں کا نصاب، تحقیقی رجحانات، اور طلبہ کی امنگیں، سب کچھ مغربی علمیات اور مارکیٹ کی ڈیمانڈز کے تابع ہیں۔ اس سارے عمل میں اسلامی تصور علم، وحی کی بنیاد، اخلاقی اقدار، اور مقصدِ حیات کا تصور مکمل طور پر غائب ہے۔

اس فکری اور عملی انحراف نے علم کو محض ایک “پیداواری آلہ” میں تبدیل کر دیا ہے، اور انسان کو ایک “ہیومن ریسورس” بنا دیا ہے، جو سرمایہ دارانہ نظام میں صرف کارکردگی، منافع اور مادی ترقی کا ایندھن بن کر رہ گیا ہے۔ اسلام میں علم کا مقصد معرفتِ الٰہی، خشیت، اور عبدیت ہے، جیسا کہ قرآن خود کہتا ہے: “إنما يخشى الله من عباده العلماء” (اللہ سے حقیقی طور پر صرف علماء ڈرتے ہیں)۔ لیکن جب علم سے تقویٰ، خشیت، اور خدمتِ خلق کا رشتہ ختم ہو جائے، اور وہ صرف دنیا کمانے یا اقتدار حاصل کرنے کا ذریعہ بن جائے، تو پھر وہ علم بوجھ بن جاتا ہے، نہ کہ روشنی۔

علم، سائنس، اور ترقی کے باب میں اصلاح کی بنیاد بھی انھیں تین جہت پر ہونی چاہیے جس پر اسلامی معاشرہ کھڑا ہوتا ہے پہلا کلامی (عقیدہ) دوسرا فقہی، اور تیسرا تصوف (روحانی تربیت)۔ سب سے پہلے یہ ضروری ہے کہ ہم علم و سائنس کے موجودہ رجحان کو کلامی زاویے سے جانچیں، یعنی کیا موجودہ تعلیمی و تحقیقی مناہج توحید، نبوت، اور آخرت جیسے بنیادی عقائد کے تابع ہیں یا ان سے آزاد و بیگانہ؟ اگر علم کا حاصل مادہ پرستی، دنیا پرستی، اور انسان کو خودمختار سمجھنے پر ختم ہو رہا ہے، تو وہ “ایمان کے نظام” سے متصادم ہے، خواہ وہ تکنیکی اعتبار سے کتنا ہی ترقی یافتہ کیوں نہ ہو۔ اس لیے لازم ہے کہ سائنسی اور تعلیمی پالیسیوں کو کلامی اصولوں کی روشنی میں تشکیل دیا جائے، اور ہر نصاب کا جائزہ اس سوال پر ہو: “کیا یہ علم معرفتِ الٰہی اور تقویتِ ایمان کا ذریعہ بن رہا ہے؟”

دوسری جہت فقہی و شرعی ہے۔ یہاں سوال یہ ہے کہ موجودہ سائنسی رجحانات اور تعلیمی میدان میں اختیار کی جانے والی مہارتیں، تحقیقات، اور سکلز شریعت کے دائرے میں آتی ہیں یا نہیں؟ کیا ہمارے سائنسی منصوبے شرعی اخلاقیات، عدل، حلال و حرام، انسانی حقوق، اور عدلِ اجتماعی پر پورا اترتے ہیں؟ فقہ ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ مباحات کو اختیار کرنا اس وقت درست ہے جب وہ کسی معروف شرعی مقصد کی تکمیل کریں، ورنہ وہ فضول یا مضر قرار دیے جا سکتے ہیں۔ چنانچہ جو تعلیمی و سائنسی ترقی سرمایہ دارانہ منافع، استحصال یا دنیا پرستی کو فروغ دے، وہ فقہی لحاظ سے بھی قابلِ قبول نہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ تمام تعلیمی پالیسیوں، تحقیقی منصوبوں، اور جامعاتی سرگرمیوں کو شرعی اصولوں سے ہم آہنگ بنایا جائے۔ مثلاً، ان کی غایت نفع رسانی، امت کی خدمت، عدل، اور فتنوں کا ازالہ ہو نہ کہ صرف انفرادی ترقی۔

تیسری اور سب سے نظرانداز کی گئی جہت تزکیہ و روحانیت کی ہے۔ علم اگر انسان کے اندر انکساری، خشیت، خلوص، صبر، حلم اور تواضع نہ پیدا کرے تو وہ اسلامی معنوں میں “علمِ نافع” نہیں۔ افسوس کہ موجودہ سائنسی نظام نے روحانیت کو مکمل طور پر تعلیم سے کاٹ دیا ہے، نتیجتاً ایک ظاہری تعلیم یافتہ مگر باطنی طور پر خالی انسان سامنے آتا ہے۔ اس لیے تعلیمی اداروں، بالخصوص سائنس و ٹیکنالوجی کے مراکز میں، ایسی روحانی تربیت کو لازم قرار دیا جائے جو طالب علم کو “عبد” بننے کا شعور دے۔ تزکیہ کے اس نظام میں ذکر، محاسبہ، دعا، استغفار، اور سیرت النبی ﷺ کی روشنی میں عملی تربیت شامل ہو۔

ان تینوں جہات کو ملا کر جو جامع اصلاحی سوچ تیار ہو، وہی مسلم معاشرے میں علم اور ترقی کو دوبارہ اصل راہ پر ڈال سکتی ہے۔ بصورت دیگر، صرف معاشی یا اخلاقی اصلاح کی بات کرنا ایک ایسی عمارت کھڑی کرنا ہو گا جس کی بنیاد ہی نہ ہو۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top