
جامعۃ الرشید کے ذریعہ شائع شدہ زیرِ نظر پوسٹر میں وقت کی منصوبہ بندی کی جو تعبیر پیش کی گئی ہے، وہ علمی معیار پر جانچنے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ سرمایہ دارانہ مادیت کے بیانیے کو دہراتی ہے اور یہ جدیدیت میں گندھی ہوئی ہے، اس عنوان پر کسی ایک کارپوریٹ مضمون کو یا کتاب کو سامنے رکھ لیا جائے تو یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ اس پوسٹر میں بیان ہوا تصور وقت اسلامی نہیں ۔ “پیداواری صلاحیت میں اضافہ”، “پیشہ ورانہ ترقی”، “دباؤ میں کمی”، “فرصت کے اوقات” اور “بہتر فیصلہ سازی” جیسے نعروں میں انسان اور وقت، دونوں کو کارکردگی (performance) اور دنیاوی نفع کے اوزار بنا دیا گیا ہے۔ یہ زاویۂ نظر خواہ نیک نیتی سے ہی اختیار کیا گیا ہو اسلامی مقاصدِ حیات (توحید، عبودیت، تزکیہ، عدل، اور عمارتِ ارض) کی روح سے کم از کم دو بنیادی سطحوں پر انحراف پیدا کرتا ہے: ایک، مقصدِ حیات کو مادّی کارکردگی تک محدود کرنا؛ دوسرے، وقت کو امانت کے بجائے سرمائے کی طرح برتنا۔ چنانچہ اس تعبیر کا علمی محاکمہ لازم ہے تاکہ ہمارے دینی اداروں کی زبان و فکر بھی وحی کے افق سے متصل رہے، نہ کہ جدید معاشی مادی استعارات کے زیرِ اثر۔
اسلام میں وقت کی ماہیت “سرمایہ” نہیں، “امانت” ہے؛ قرآن نے “والعصر” کہہ کر وقت کی عظمت پر قسم کھائی اور فوراً بتا دیا کہ خسارے سے نجات ایمان، عملِ صالح، تواصی بالحق اور تواصی بالصبر سے وابستہ ہے، نہ کہ پیداواری اشاریات سے۔ اس کے برعکس سرمایہ دارانہ فکر کی بنیاد ہی “Time is Money” پر ہے؛ وہاں وقت کارخانے کی مشین کے مانند ہے جس سے زیادہ سے زیادہ پیداوار نچوڑنا مطلوب ہے۔ اسلامی علمیات میں وقت کا مصرف “عبادتِ ربّ” اور “اصلاحِ نفس و معاشرہ” ہے: وما خلقت الجن والإنس إلا ليعبدون۔ یوں منصوبہ بندی کی صحت کا معیار یہ ہے کہ وہ عبدیت، نیتِ صالحہ اور آخرت کی جواب دہی کو مضبوط بناتی ہے یا نہیں۔
جدید زبانِ منیجمنٹ میں ذہنی سکون کو محض اچھی شیڈولنگ کا ثمر بتایا جاتا ہے، حالانکہ وحی کا بیان ہے: ألا بذكر الله تطمئن القلوب۔ جدید تصور وقت نظام ذکر، نمازِ ، تلاوت، توبہ و استغفار اور صلہ رحمی کو حاشیے پر رکھ کر “ٹاسک فلو” کو مرکز بناتا ہے، وہ اضطراب کی داخلی جڑوں کو چھیڑے بغیر صرف انتظامی مرہم رکھتا ہے۔ اسی طرح “Work-Life Balance” کی اصطلاح بھی دراصل ایک سیکولر تقسیم ہے؛ اسلام میں توازن کا منبع عبدیت ہے، حقوقُ اللہ، حقوقُ العباد اور حقوقُ النفس کی ادائیگی۔ نبی اکرم ﷺ نے “إنَّ لِنَفْسِكَ عَلَيْكَ حَقًّا… ولأهلِكَ عليكَ حقًّا” کا اصول دے کر بتایا کہ عبادت، معاش اور اہلِ خانہ، سب کے اوقات عبدیت کے زیرِ نظم ہیں، نہ کہ مارکیٹ کے دباؤ کے تحت۔
فیصلہ سازی کو بھی پوسٹر میں کارکردگی اور نظمِ وقت کی مہارت سے جوڑا گیا ہے؛ اسلامی سنت یہ ہے کہ فیصلے عقلِ سلیم کے ساتھ وحی کی رہنمائی، مشورہ (شوریٰ) اور استخارہ کے ادب کے ساتھ ہوتے ہیں۔ یوں صحیح فیصلہ “زیادہ وقت” یا “بہتر کیلنڈر” کا نہیں، “صحیح معیار” کا محتاج ہے۔ پھر کامیابی کی اصطلاحات “ترقی”، “اہداف کا حصول”، “پروفیشنل گروتھ”، اگر آخرت کے میزان سے بےنیاز ہو جائیں تو قرآن کی اس تنبیہ سے ٹکراتی ہیں کہ اصل کامیابی یہ ہے کہ آدمی آگ سے بچا کر جنت میں داخل کر دیا جائے۔ جو منصوبہ بندی اس غایت سے مربوط نہ ہو، وہ معنی کے اعتبار سے نامکمل ہے چاہے تنظیم کے اعتبار سے کتنی ہی مکمل کیوں نہ ہو۔
سرمایہ دارانہ مفروضہ انسان کو معاشی اکائی اور وقت کو قابلِ صرف اثاثہ بنا دیتا ہے؛ نتیجتاً ربطِ عبدیت ٹوٹتا اور بیگانگی (alienation) بڑھتی ہے، آدمی کام کے ڈھانچے میں فِٹ تو ہو جاتا ہے مگر اپنے رب، اپنے گھر اور اپنے نفس سے دور ہو جاتا ہے۔ اسلامی اخلاقِ وقت میں “مراقبہ و محاسبہ” اصل ہیں: روزانہ یہ سوال کہ آج کی گھڑیاں کہاں خرچ ہوئیں؟ حدیث کی روشن ہدایت ہے کہ بندہ چار چیزوں سے متعلق پوچھا جائے گا جن میں “عن عمره فيما أفناه” بھی ہے۔ اس سوال کے سامنے “پیداواری صلاحیت” بطورِ دلیل پیش نہیں کی جا سکے گی، الا یہ کہ وہ صلاحیت ایمان و عملِ صالح اور خیرِ خلق کی راہ میں صرف ہوئی ہو۔
اسلامی تناظر میں درست “وقت نظم” وہ ہے جو عبادات (پانچ نمازیں، جمعہ، رمضان، تہجد وغیرہ) کو روز و شب کی انگیجمنٹ لائنیں بناتا ہے؛ پھر علم، کسبِ حلال، خدمتِ والدین، تربیتِ اولاد، حقوقِ ہمسایہ اور فریضۂ شہادتِ حق کے لیے اوقات متعین کرتا ہے۔ معاش کو سرمایہ کی زیادہ سے زیادہ حصول کے بجائے شریعت میں نفوذ کی گئی ذمہ داری کو نبھانے کا مطمح قرار دیتا ہے۔ اسلامی تصور وقت میں اطاعت خداوندی مرکزیت رکھتی ہے جو احساس امانت سے نصیب ہوتی ہے۔ اسی میں “حقُّ النفس” کے تحت آرام، تفکر، تنہائی اور جسمانی صحت کی پاسداری بھی عبادت کے درجے میں آ جاتی ہے؛ اس کے بغیر معاشی سرگرمیاں عبادت کے بجائے تھکن اور بےمعنویت پیدا کرتی ہے۔
عملی سطح پر ایک اسلامی شیڈول دن کی لکیروں کو نمازوں سے باندھتا ہے، کام کے بلاکس میں صدقِ نیت اور امانتِ داری کو نصب العین رکھتا ہے، ہر دن میں قرآن و ذکر کی مستقل خوراک شامل کرتا ہے، صلہ رحمی و خدمتِ خلق کے سلاٹس بناتا ہے، فیصلوں سے پہلے مشورہ اور استخارہ کا ادب بتلاتا ہے، اور ہر رات مختصر محاسبہ کر کے سوتا ہے۔ یوں KPI(key performance indicators)کا مفہوم بھی بدل جاتا ہے: “کتنا کمایا” کے بجائے “کتنا حلال کمایا؟ کتنے دلوں کو فائدہ پہنچایا؟ کتنی ذمہ داریاں اللہ کی رضا کے مطابق ادا ہوئیں؟” بنجاتی ہیں۔
علمی دیانت کا تقاضا ہے کہ دینی ادارے, خصوصاً وہ جن سے عوام نصیحت لیتے ہیں, اپنی ترسیلات میں لغت و استعارات کی تطہیر کریں۔ اگر کسی تربیتی مواد میں سرمایہ دارانہ زبان ناگہاں در آئی ہو تو اس کی اصلاح مطلوب ہے: “Productivity/Stress/Professional Growth” کو “برکت/ذکر و سکینت/احسان و امانت” کی قرآنی لغت سے بدلنا چاہیے؛ “Time is Money” کے بجائے “وقت امانتِ الٰہی” کہنا چاہیے؛ “Outcomes” کے بجائے “قبولیت” اور “رضائے الٰہی” کو نصب العین رکھنا چاہیے۔ یہی اسلامی تہذیبِ وقت ہے جو انسان کو مشین نہیں بناتی، عبد بناتی ہے, اور خدا کا عبد ہی دنیا کی غلامی سے آزاد ہوتا ہے۔
آخر میں ہم خیرخواہانہ طور پر یہ عرض کرتے ہیں کہ جامعۃ الرشید جیسے معتمد ادارے اس موضوع پر اپنا بیانیہ وحی کے منہج سے زیادہ گہرا مربوط کریں: وقت کی منصوبہ بندی کو کارکردگی نہیں، عبودیت کا باب بنایا جائے؛ نصابات اور پوسٹرز میں نمازِ اوّل وقت، ذکر، قرآن فہمی، صلہ رحمی، خدمتِ خلق، عدل و امانت، اور محاسبۂ نفس کو مرکزی اقدار کی حیثیت دی جائے؛ اور جدید انتظامی اوزاروں کو اسی غایت کے تابع رکھا جائے۔ جب زبان درست ہو جائے گی تو سمت درست ہو جائے گی؛ اور جب سمت درست ہو تو تھوڑا وقت بھی بارآور، بابرکت اور نجات آفریںہوگا

